جمعہ، 12 جولائی، 2019

*ایک لفظی غلطی* *جسکی درستگی لازم هے* ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺴﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ " ﺍﻧﺸﺎﺀ ﺍﻟﻠﮧ " ﻟﮑﮭﺎ، ﺗﻮ کسی ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﮩﺎ: ﻟﻔﻆ "ﺍﻧﺸﺎﺀﺍﻟﻠﮧ" ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ، ﺑﻠﮑﮧ یه *" ﺍﻥ ﺷﺎﺀﺍﻟﻠﮧ "* ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ… ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻟﮓ الگ ﻣﻌﻨﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮑﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺑﮩﺖ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮا- ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﻠﻢ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻓﻼﮞ ﺳﻮﺭﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﻟﮑﮭﺎ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ، ﺁﭖ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﮩﮧ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻏﻠﻂ ﮨﮯ- ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﻭﺿﺎﺣﺖ ﺩﯼ، ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: "ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﺮﻭﮞ گا" خود سے ﺗﺤﻘﯿﻖ کی تو ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺻﺎﺣﺐ ﺻﺤﯿﺢ ﻓﺮﻣﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ۔۔ ﻟﻔﻆ " ﺍﻧﺸﺎﺀ " ﺟﺴﮑﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ "ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ " ﻟﯿﮑﻦ ﺍﮔﺮ " ﺍﻧﺸﺎﺀﺍﻟﻠﮧ " ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ مطلب بنتا هے "ﺍﻟﻠﮧ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ" ﻧﻌﻮﺫﺑﺎﺍﻟﻠﮧ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﺳﮯ ﺻﺎﻑ ﻇﺎﮨﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻟﻔﻆ " ﺍﻧﺸﺎﺀ " ﮐﻮ ﻟﻔﻆ "ﺍﻟﻠﮧ "ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮑﮭﻨﺎ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻏﻠﻂ ﮨﮯ- ﺍﺳﮑﮯ ﻟﺌﮯ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﯽ ﮐﭽﮫ ﺁﯾﺎﺕ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﻟﻔﻆ " ﺍﻧﺸﺎﺀ " ﺍﮐﯿﻼ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮨﻮﺍ ہے... 1. ﻭَﻫﻮَ ﺍﻟَّﺬِﯼ ﺃَﻧْﺸَﺄَ ﻟَﮑُﻢُ ﺍﻟﺴَّﻤْﻊَ ﻭَﺍﻟْﺄَﺑْﺼَﺎﺭَ ﻭَﺍﻟْﺄَﻓْﺌِﺪَۃَ ﻗَﻠِﯿﻠًﺎ ﻣَﺎ ﺗَﺸْﮑُﺮُﻭﻥَ سورة ﺍﻟﻤﻮﻣﻦ 78 2. ﻗُﻞْ ﺳِﯿﺮُﻭﺍ ﻓِﯽ ﺍﻟْﺄَﺭْﺽِ ﻓَﺎﻧْﻈُﺮُﻭﺍ ﮐَﯿْﻒَ ﺑَﺪَﺃَ ﺍﻟْﺨَﻠْﻖَ ﺛُﻢَّ ﺍﻟﻠَّﻪ ﯾُﻨْﺸِﺊُ ﺍﻟﻨَّﺸْﺄَۃَ ﺍﻟْﺂَﺧِﺮَۃَ ﺇِﻥَّ ﺍﻟﻠَّﮧَ ﻋَﻠَﯽ ﮐُﻞِّ ﺷَﯽْﺀ ٍ ﻗَﺪِﯾﺮ. سورة ﺍﻟﻌﻨﮑﺒﻮﺕ 20 3. ﺇِﻧَّﺎ ﺃَﻧْﺸَﺄْﻧَﺎﻫﻦَّ ﺇِﻧْﺸَﺎﺀ ً سورة ﺍﻟﻮﺍﻗﻌﮧ 35 ﺍﻥ ﺁﯾﺎﺕ ﺳﮯ ﺻﺎﻑ ﻇﺎﮨﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ " ﺍﻧﺸﺎﺀ " ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﮩﯿﮟ " ﺍﻟﻠﮧ " ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎ ﮔﯿﺎ. ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﻟﻔﻆ ﺍﻟﮓ ﻣﻌﻨﯽ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ۔۔ ﻟﻔﻆ *"ﺍﻥ ﺷﺎﺀﺍﻟﻠﮧ "* ﺟﺴﮑﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ *" ﺍﮔﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﭼﺎﮨﺎ "* " ﺍﻥ " ﮐﺎ ﻣﻌﻨﯽ ﮨﮯ " ﺍﮔﺮ " "ﺷﺎﺀ "ﮐﺎ ﻣﻌﻨﯽ ﮨﮯ " ﭼﺎﮨﺎ" "ﺍﻟﻠﮧ "ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ " ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ " ﺗﻮ ثابت هوا که ﻟﻔﻆ *" ﺍﻥ ﺷﺎﺀﺍﻟﻠﮧ "* ﮨﯽ ﺩﺭﺳﺖ ﮨﮯ ﺟﯿﺴﺎ ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﺁﯾﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻭﺍﺿﺢ ﮨﮯ ۔۔ 1. ﻭَﺇِﻧَّﺎ ﺇِﻥْ ﺷَﺎﺀ َ ﺍﻟﻠَّﻪ ﻟَﻤُﮩْﺘَﺪُﻭﻥَ سورة ﺍﻟﺒﻘﺮﮦ 70 2. ﻭَﻗَﺎﻝَ ﺍﺩْﺧُﻠُﻮﺍ ﻣِﺼْﺮَ ﺇِﻥْ ﺷَﺎﺀ َ ﺍﻟﻠَّﻪ ﺁَﻣِﻨِﯿﻦَ سورة ﯾﻮﺳﻒ 99 3. ﻗَﺎﻝَ ﺳَﺘَﺠِﺪُﻧِﯽ ﺇِﻥْ ﺷَﺎﺀ َ ﺍﻟﻠَّﻪ ﺻَﺎﺑِﺮًﺍ ﻭَﻟَﺎ ﺃَﻋْﺼِﯽ ﻟَﮏَ ﺃَﻣْﺮًﺍ سورة ﺍﻟﮑﮩﻒ 69 4. ﺳَﺘَﺠِﺪُﻧِﯽ ﺇِﻥْ ﺷَﺎﺀ َ ﺍﻟﻠَّﻪ ﻣِﻦَ ﺍﻟﺼَّﺎﻟِﺤِﯿﻦَ سورة ﺍﻟﻘﺼﺎﺹ 27 ﺍﻥ ﺁﯾﺎﺕ ﺳﮯ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻟﻔﻆ *" ﺍﻥ ﺷﺎﺀﺍﻟﻠﮧ "* ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ *" ﺍﮔﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﭼﺎﮨﺎ "* انگریزی میں یوں لکھ جاسکتا ھے.. *"In Sha Allah"* صدقه جاریه کے طور پر اس معلومات کے فروغ کے ساتھ ساتھ دعاؤں کی بھی درخواست ھے۔“ جزاک الله


السلام علیکم ملک پاکستان میں سرکاری ملازمین کی جھوٹی دلیل موجودہ حکومت اور پہلی حکومتی نظام میں دفاع قادیانیت کرکے عوام کو بیوقوف بنانے کے لیے بعد پریس کانفرنستمام سیاسی جماعتیں اپنے فائدے کیلئے اسلام اور ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اور جزبہ دکھا کر تمام پاکستانی عوام کے جزبات مجروع نہ کرو اللہ تعالیٰ کےلئے دین اسلام کو اور ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کو محض چند دنیاوی سکوں کی خاطر بار بار امت مسلمہ کے دل میں ملک پاکستان کے لئے اور پاکستانی عوام کےلئے نفرت نہ بھرو سب امت مسلمہ کو معلوم ہے کہ تم سب کو کتنا پیار ہے اسلام اور ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم سے جھوٹی دلیل دے کر مزید اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اور ذلیل وخوار ہو جاؤ گے اللہ تعالیٰ دین اسلام پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین


بدھ، 10 جولائی، 2019

﷽ایک دفعہ دل سے ضرور پڑھیئے گا- 🍁خوراک کے سلسلے میں ہدایات🍁 حفظانِ صحت میں خوراک، ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ متوازن خوراک سے انسان کی صحت برقرار رہتی ہے۔ وہ مناسب طور پر نشوونما پاتا ہے اور محنت کی قابلیت بھی پیدا ہوتی ہے۔ اس بارے میں قرآن نے صرف تین جملوں میں طب قدیم اور طب جدید کو سمیٹا ہوا ہے، ارشادِ ربانی ہے: ’’کھاؤ، پیو اور اس میں حد سے آگے نہ بڑھو۔‘‘ (الاعراف:31) یہ تینوں وہ مسلمہ اصول ہیں جن میں کسی کا بھی اختلاف نہیں ۔ کھانا پینا زندگی کی بنیادی ضرورت ہے، اس کے بغیر انسان زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتا، اور نہ اپنے فرائض منصبی سے بہ طریقِ احسن عہدہ برآ ہوسکتا ہے، البتہ اس میں اعتدال سے کام لینا صحت کے لیے ضروری ہے۔ نہ کھانے، یا ضرورت سے کم کھانے سے جسمِ انسانی بیمار پڑ جاتا ہے، جبکہ ضرورت سے زیادہ کھانے سے معدہ پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ پڑتا ہے اور معدہ کی خرابی تمام امراض کی جڑ ہے، جب معدہ صحیح حالت میں ہو تو رگیں بھی جسم کے تمام حصوں کو صحت (صحیح خون) مہیا کرتی ہیں اور جب معدہ بیمار پڑ جائے تو اس سے رگوں کے ذریعے تمام جسم بیمار پڑ جاتا ھے- قدیم عربوں کے مشہور طبیب حارث بن کلدۃ کا قول ہے: ’’پرہیز دوا کا سر (بنیاد) ہے اور معدہ بیماری کا گھر ہے، ہر شخص کو وہ چیز کھانی چاہیے جو اس کے بدن کے مطابق ہو، اور کم خوراکی بہ ذاتِ خود ایک علاج ہے۔‘‘ اکثر امراض کا سبب ناقص غذا یا اس کا غیر مناسب طریقہ استعمال ہے۔ اگر غذا ضرورت کے مطابق اور انسانی مزاج کے مناسب ہو اور ضرورت سے زائد نہ ہو تو انسان زیادہ دیر تک بہت سارے امراض سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آدابِ طعام اور کھانے پینے کے سلسلے میں بھی بھرپور ہدایات فرمائی ہیں ، آپؐ کے بتائے ہوئے کھانے کے تمام طریقے حفظانِ صحت کے اصول کے مطابق ہیں اور آپؐ کے ہر ارشاد میں طبی فلسفے مضمر ہیں ۔ احادیث کی کتابوں میں آداب الطعام پر مستقل عنوانات موجود ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اصولِ صحت کا کتنا خیال رکھتے تھے۔ اس سلسلے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے ارشادات اور آپؐ کے اسوۂ حسنہ کا خلاصہ یہ ہے: -1 حضور صلی اللہ علیہ وسلم نہایت سادہ، نرم، زود ہضم، مرغوب اور مانوس غذائیں کھاتے تھے۔ کدو، گوشت، مکھن، دودھ ، جو اور گندم کی بغیر چھنے آٹے کی روٹی، شہد، سرکہ، نمک، زیتون کا تیل اور کھجور وغیرہ آپؐ کی مرغوب غذائیں تھیں ۔ یہ وہ غذائیں ہیں جن کی افادیت پر تمام اقوام عالم متفق ہیں ۔ ہر ملک اور ہر موسم میں ان کا استعمال مفید اور صحت بخش ہے۔ آپؐ کی غذا حیوانی اور نباتی دونوں طرح کی تھی۔ -2 کھانا کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھتے اور کھانا کھا کر یہ دعا پڑھتے الحمدللہ الذی اطعم وسقیٰ وسوغہ وجعل لہ مخرجا- (ترجمہ)’’ سب تعریف اللہ کے لئے ھے جس نے کھلایا پلایا-اسکو نگلنے میں آسان بنایا اور اسکے نکلنے کیلیئے راستہ بنایا-(ابوداؤد) کھانے کے بعد ہاتھ دھو لیا کرتے تھے۔ -3 جب تک کھانے کی اشتہا نہ ہوتی، کبھی نہ کھاتے، اور ابھی اشتہا باقی ہوتی کہ کھانا ختم کر دیتے۔ -4 کھانے کے فوراً بعد سونا پسند نہیں فرماتے تھے، بلکہ (چہل قدمی) کرتے یا نماز پڑھتے۔ -5 تکیہ لگا کر کھانا کھانا پسند نہ فرماتے، کیونکہ یہ تکبر کی علامت ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ تکیہ لگانے سے معدہ کی حالت کچھ اس طرح ہوتی ہے کہ کھانا اچھی طرح بہ آسانی اپنی جگہ نہیں پہنچتا اور ہضم ہونے میں دیر لگتی ہے۔ -6 تین انگلیوں سے کھانا کھاتے۔ -7 گرم اور سرد اور دیگر متضاد اثر والی غذائیں جمع نہیں فرماتے تھے اور موسموں کے مطابق غذا میں تبدیلی لاتے تھے۔ -8 سونے اور چاندی کے برتن میں نھیں کھاتے تھے۔ -9 کھانا کھانے میں عجلت سے کام نہیں لیتے تھے، آہستہ آہستہ کھاتے تھے۔ھر لقمے کو چبا چبا کر کھاتے- -10 بیٹھ کر کھاتے تھے، بیٹھنے کا انداز عاجزانہ اور متواضعانہ تھا۔ آپؐ دو زانوں ہو کر تشریف رکھتے اور اپنے قدموں کی پشت پر بیٹھتے یا دایاں قدم کھڑا کر کے، بائیں قدم پر تشریف رکھتے تھے۔ -11 گرم کھانے میں پھونک نہیں مارتے تھے اور نہ گرم گرم کھاتے، بلکہ اس کے سرد ہونے تک انتظار فرماتے۔ گرم کھانا معدے کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے اور اس کے بعد ٹھنڈا پانی پینے سے دانتوں کی بیماریاں جنم لیتی ہیں ۔ -12 ہمیشہ آپؐ سامنے سے کھانا کھاتے تھے اور وہی کھاتے جو آپؐ کے قریب ہوتا۔ -13 آپؐ نے کبھی بھی طعام میں عیب نہیں نکالا اور نہ کبھی اس کی مذمت کی۔ کیونکہ یہ طعام کی بے عزتی اور توہین ہے۔ اگر کھانا طبیعت کے موافق ہوتا تو تناول فرماتے، ورنہ چھوڑ دیتے۔ -14 ان سبزیوں کے کھانے سے پرہیز کرتے جن کی بو سے دوسروں کو تکلیف پہنچنے کا خطرہ ہو… مثلاً کچی پیاز، لہسن یا دیگر بدبو دار اشیاء۔ البتہ ان چیزوں کو پکا کر کھا لیتے یا کھانے کے بعد منہ اچھی طرح صاف کر لیتے یا کوئی ایسی چیز کھا لیتے جس سے اس کی بدبو ختم ہو جائے۔ 15-ڈکاریں کم لینے کا حکم دیتے مطلب بھت زیادہ کھانا نہ کھانے کی ترغیب دیتے- علامہ ابن قیم فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم وہ غذا استعمال فرماتے تھے جس میں مندرجہ ذیل تین اوصاف ہوں : -1 قوائے جسمانی کے لیے مفید ہو۔ -2 معدے کے لیے خفیف اور نرم ہو۔ -3جلد ہضم ہونے والی ہو۔ (زاد المعاد، کتاب الطب) ان تمام آداب سے خوراک کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نفاستِ طبع اور حسنِ انتخاب کا پتا چلتا ہے۔ ان کے اثرات جسمِ انسانی پر دوررس اور مفید ہیں اور صحت و صفائی کے ساتھ ان کا گہرا رابطہ ہے۔ اللہ عمل کی توفیق دے اور اچھی صحت عطا کرے-آمین....*انتخاب*


[6/30, 8:38 PM] Fida Muslim Kashmir: السلام علیکم جی کیا ہم سب مل کر اس دلدل سے باہر نکل آئے گے قرضوں کی ادائیگی اور ملکی سیاسی صورتحال اور معیشت کی جو حالت ہے [6/30, 8:44 PM] Fida Muslim Kashmir: میں گزرارش کرتا ہوں موجودہ حکومت سےملک پاکستان کے آئین کو پامال ہونے سے بچاے اور عوام کو اپنے اعتمادمیں لے کر چلے اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے ہم سب ملکر حکومت کا ساتھ دے اپنی زمہ داری نبھاے اور اپنا فرض ادا کرے اس بات کا جواب ضرور دیں جزاک اللہ خیرا اللہ سبحان و تعالیٰ ملک پاکستان کی حفاظت فرماۓ اور پاکستان آرمی کو سلامت رکھے اور ملک پاکستان کی حکومت کو ہمت اور توفیق دے


منگل، 9 جولائی، 2019

بسم الله الرحمن الرحيم السلام عليكم الله تبارك وتعالى سب پر کرم کرے اور مشکلات کو آسان کرے


السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ جی اللہ سبحان و تعالٰی ہم سب کی مدد کرے اور کشادہ رزق عطا فرمائے



[6/30, 8:38 PM] Fida Muslim Kashmir: السلام علیکم جی کیا ہم سب مل کر اس دلدل سے باہر نکل آئے گے قرضوں کی ادائیگی اور ملکی سیاسی صورتحال اور معیشت کی جو حالت ہے [6/30, 8:44 PM] Fida Muslim Kashmir: میں گزرارش کرتا ہوں موجودہ حکومت سےملک پاکستان کے آئین کو پامال ہونے سے بچاے اور عوام کو اپنے اعتمادمیں لے کر چلے اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے ہم سب ملکر حکومت کا ساتھ دے اپنی زمہ داری نبھاے اور اپنا فرض ادا کرے اس بات کا جواب ضرور دیں جزاک اللہ خیرا اللہ سبحان و تعالیٰ ملک پاکستان کی حفاظت فرماۓ اور پاکستان آرمی کو سلامت رکھے اور ملک پاکستان کی حکومت کو ہمت اور توفیق دے