بدھ، 10 جولائی، 2019
﷽ایک دفعہ دل سے ضرور پڑھیئے گا- 🍁خوراک کے سلسلے میں ہدایات🍁 حفظانِ صحت میں خوراک، ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ متوازن خوراک سے انسان کی صحت برقرار رہتی ہے۔ وہ مناسب طور پر نشوونما پاتا ہے اور محنت کی قابلیت بھی پیدا ہوتی ہے۔ اس بارے میں قرآن نے صرف تین جملوں میں طب قدیم اور طب جدید کو سمیٹا ہوا ہے، ارشادِ ربانی ہے: ’’کھاؤ، پیو اور اس میں حد سے آگے نہ بڑھو۔‘‘ (الاعراف:31) یہ تینوں وہ مسلمہ اصول ہیں جن میں کسی کا بھی اختلاف نہیں ۔ کھانا پینا زندگی کی بنیادی ضرورت ہے، اس کے بغیر انسان زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتا، اور نہ اپنے فرائض منصبی سے بہ طریقِ احسن عہدہ برآ ہوسکتا ہے، البتہ اس میں اعتدال سے کام لینا صحت کے لیے ضروری ہے۔ نہ کھانے، یا ضرورت سے کم کھانے سے جسمِ انسانی بیمار پڑ جاتا ہے، جبکہ ضرورت سے زیادہ کھانے سے معدہ پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ پڑتا ہے اور معدہ کی خرابی تمام امراض کی جڑ ہے، جب معدہ صحیح حالت میں ہو تو رگیں بھی جسم کے تمام حصوں کو صحت (صحیح خون) مہیا کرتی ہیں اور جب معدہ بیمار پڑ جائے تو اس سے رگوں کے ذریعے تمام جسم بیمار پڑ جاتا ھے- قدیم عربوں کے مشہور طبیب حارث بن کلدۃ کا قول ہے: ’’پرہیز دوا کا سر (بنیاد) ہے اور معدہ بیماری کا گھر ہے، ہر شخص کو وہ چیز کھانی چاہیے جو اس کے بدن کے مطابق ہو، اور کم خوراکی بہ ذاتِ خود ایک علاج ہے۔‘‘ اکثر امراض کا سبب ناقص غذا یا اس کا غیر مناسب طریقہ استعمال ہے۔ اگر غذا ضرورت کے مطابق اور انسانی مزاج کے مناسب ہو اور ضرورت سے زائد نہ ہو تو انسان زیادہ دیر تک بہت سارے امراض سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آدابِ طعام اور کھانے پینے کے سلسلے میں بھی بھرپور ہدایات فرمائی ہیں ، آپؐ کے بتائے ہوئے کھانے کے تمام طریقے حفظانِ صحت کے اصول کے مطابق ہیں اور آپؐ کے ہر ارشاد میں طبی فلسفے مضمر ہیں ۔ احادیث کی کتابوں میں آداب الطعام پر مستقل عنوانات موجود ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اصولِ صحت کا کتنا خیال رکھتے تھے۔ اس سلسلے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے ارشادات اور آپؐ کے اسوۂ حسنہ کا خلاصہ یہ ہے: -1 حضور صلی اللہ علیہ وسلم نہایت سادہ، نرم، زود ہضم، مرغوب اور مانوس غذائیں کھاتے تھے۔ کدو، گوشت، مکھن، دودھ ، جو اور گندم کی بغیر چھنے آٹے کی روٹی، شہد، سرکہ، نمک، زیتون کا تیل اور کھجور وغیرہ آپؐ کی مرغوب غذائیں تھیں ۔ یہ وہ غذائیں ہیں جن کی افادیت پر تمام اقوام عالم متفق ہیں ۔ ہر ملک اور ہر موسم میں ان کا استعمال مفید اور صحت بخش ہے۔ آپؐ کی غذا حیوانی اور نباتی دونوں طرح کی تھی۔ -2 کھانا کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھتے اور کھانا کھا کر یہ دعا پڑھتے الحمدللہ الذی اطعم وسقیٰ وسوغہ وجعل لہ مخرجا- (ترجمہ)’’ سب تعریف اللہ کے لئے ھے جس نے کھلایا پلایا-اسکو نگلنے میں آسان بنایا اور اسکے نکلنے کیلیئے راستہ بنایا-(ابوداؤد) کھانے کے بعد ہاتھ دھو لیا کرتے تھے۔ -3 جب تک کھانے کی اشتہا نہ ہوتی، کبھی نہ کھاتے، اور ابھی اشتہا باقی ہوتی کہ کھانا ختم کر دیتے۔ -4 کھانے کے فوراً بعد سونا پسند نہیں فرماتے تھے، بلکہ (چہل قدمی) کرتے یا نماز پڑھتے۔ -5 تکیہ لگا کر کھانا کھانا پسند نہ فرماتے، کیونکہ یہ تکبر کی علامت ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ تکیہ لگانے سے معدہ کی حالت کچھ اس طرح ہوتی ہے کہ کھانا اچھی طرح بہ آسانی اپنی جگہ نہیں پہنچتا اور ہضم ہونے میں دیر لگتی ہے۔ -6 تین انگلیوں سے کھانا کھاتے۔ -7 گرم اور سرد اور دیگر متضاد اثر والی غذائیں جمع نہیں فرماتے تھے اور موسموں کے مطابق غذا میں تبدیلی لاتے تھے۔ -8 سونے اور چاندی کے برتن میں نھیں کھاتے تھے۔ -9 کھانا کھانے میں عجلت سے کام نہیں لیتے تھے، آہستہ آہستہ کھاتے تھے۔ھر لقمے کو چبا چبا کر کھاتے- -10 بیٹھ کر کھاتے تھے، بیٹھنے کا انداز عاجزانہ اور متواضعانہ تھا۔ آپؐ دو زانوں ہو کر تشریف رکھتے اور اپنے قدموں کی پشت پر بیٹھتے یا دایاں قدم کھڑا کر کے، بائیں قدم پر تشریف رکھتے تھے۔ -11 گرم کھانے میں پھونک نہیں مارتے تھے اور نہ گرم گرم کھاتے، بلکہ اس کے سرد ہونے تک انتظار فرماتے۔ گرم کھانا معدے کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے اور اس کے بعد ٹھنڈا پانی پینے سے دانتوں کی بیماریاں جنم لیتی ہیں ۔ -12 ہمیشہ آپؐ سامنے سے کھانا کھاتے تھے اور وہی کھاتے جو آپؐ کے قریب ہوتا۔ -13 آپؐ نے کبھی بھی طعام میں عیب نہیں نکالا اور نہ کبھی اس کی مذمت کی۔ کیونکہ یہ طعام کی بے عزتی اور توہین ہے۔ اگر کھانا طبیعت کے موافق ہوتا تو تناول فرماتے، ورنہ چھوڑ دیتے۔ -14 ان سبزیوں کے کھانے سے پرہیز کرتے جن کی بو سے دوسروں کو تکلیف پہنچنے کا خطرہ ہو… مثلاً کچی پیاز، لہسن یا دیگر بدبو دار اشیاء۔ البتہ ان چیزوں کو پکا کر کھا لیتے یا کھانے کے بعد منہ اچھی طرح صاف کر لیتے یا کوئی ایسی چیز کھا لیتے جس سے اس کی بدبو ختم ہو جائے۔ 15-ڈکاریں کم لینے کا حکم دیتے مطلب بھت زیادہ کھانا نہ کھانے کی ترغیب دیتے- علامہ ابن قیم فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم وہ غذا استعمال فرماتے تھے جس میں مندرجہ ذیل تین اوصاف ہوں : -1 قوائے جسمانی کے لیے مفید ہو۔ -2 معدے کے لیے خفیف اور نرم ہو۔ -3جلد ہضم ہونے والی ہو۔ (زاد المعاد، کتاب الطب) ان تمام آداب سے خوراک کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نفاستِ طبع اور حسنِ انتخاب کا پتا چلتا ہے۔ ان کے اثرات جسمِ انسانی پر دوررس اور مفید ہیں اور صحت و صفائی کے ساتھ ان کا گہرا رابطہ ہے۔ اللہ عمل کی توفیق دے اور اچھی صحت عطا کرے-آمین....*انتخاب*
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں